وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاقی حکومت کو خط میں مالی واجبات کی عدم ادائیگی پر تشویش کا اظہار کیا اور فوری ادائیگی کا مطالبہ کیا۔
پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں صوبے کو درپیش مالی دباؤ اور انتظامی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ماہانہ رقوم، نیٹ ہائیڈل منافع، تیل و گیس رائلٹیز اور ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص فنڈز کی بروقت ادائیگی نہ ہونے سے صوبہ مالی بحران کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی واجبات کی تاخیر آئینی ذمہ داریوں کے منافی ہے۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کا صوبائی بجٹ آئینی ضمانت یافتہ مالی حقوق کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا، تاہم وفاقی سطح پر ادائیگیاں مقررہ سطح سے کم رہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق اس کمی کے باعث کیش مینجمنٹ متاثر ہوئی اور بجٹ پر عملدرآمد میں رکاوٹیں آئیں۔
ضم شدہ اضلاع کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبائی بجٹ میں ان کے لیے 292 ارب روپے مختص کیے گئے، مگر وفاق کی جانب سے اب تک صرف 56 ارب روپے جاری ہوئے۔ اس تاخیر سے ترقیاتی عمل اور بنیادی سہولیات متاثر ہو رہی ہیں۔















