کیپٹن (ر) صفدر نے سپریم کورٹ میں عدلیہ کی آزادی پر زور دیا اور کہا کہ ان کا کیس 22 سال سے زیر سماعت ہے، جلد سماعت کی اپیل کی گئی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کیپٹن (ر) صفدر نے سپریم کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ ان کا کیس مانسہرہ کے حوالے سے 22 سال سے زیر سماعت ہے اور انہوں نے جلد سماعت کے لیے اپیل کی ہے تاکہ مزید تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو ہمیشہ آزاد رہنا چاہیے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ کنٹرول میں ہوتی تو سپریم کورٹ نے ان کے کیسز کو ایبٹ آباد میں سننے کا حکم دیا ہوتا۔
کیپٹن (ر) صفدر نے مزید کہا کہ ایک میجسٹریٹ نے سپریم کورٹ کا حکم نہیں مانا اور ان کے کیس کو مانسہرہ میں اپنی عدالت میں لگا کر مخالفین کو بری کر دیا۔ ان کے مطابق، اس سے واضح ہوتا ہے کہ عدلیہ کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے اور میجسٹریٹ کو سپریم کورٹ میں جواب دینا ہوگا۔















