پاکستان کی گوشت اور سمندری غذاؤں کی برآمدات 2025 میں نمایاں اضافہ کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔
بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان کی گوشت اور سمندری غذاؤں کی برآمدات 2025 میں نمایاں اضافہ کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز آف چائنا کے مطابق پاکستان کی سمندری غذاؤں کی برآمدات بڑھ کر تقریباً 255 ملین ڈالر ہو گئیں، جبکہ ابالے ہوئے گوشت کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 177 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
چین کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق منجمد مچھلی بدستور پاکستان کی سب سے بڑی سمندری غذائی برآمدی کیٹیگری رہی، جس کی مالیت تقریباً 64.6 ملین ڈالر رہی۔ چین کے ساحلی صوبے گوانگ ڈونگ نے سب سے زیادہ 8.48 ملین کلوگرام منجمد مچھلی درآمد کی، جس کی مالیت 15.7 ملین ڈالر رہی، جبکہ شان ڈونگ اور بیجنگ میں بھی 7 ملین کلوگرام سے زائد درآمدات ہوئیں۔ شنگھائی، تیانجن اور ژی جیانگ میں بھی پاکستانی سمندری غذا کی نمایاں ترسیل ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق چین کے اندرونی صوبوں سیچوان، یون نان، گوئی ژو اور چونگ چنگ میں بھی پاکستانی منجمد سی فوڈ پہنچا، جو کولڈ چین لاجسٹکس کے پھیلاؤ اور سمندری غذاؤں کی منڈی کے دائرہ کار میں توسیع کی عکاسی کرتا ہے۔
سیفالوپوڈز بھی برآمدات میں ایک اہم شعبہ بن کر سامنے آئے۔ منجمد کٹل فش اور اسکویڈ کی برآمدات تقریباً 31 ملین ڈالر جبکہ منجمد آکٹوپس کی برآمدات تقریباً 12 ملین ڈالر رہیں۔ اس کے علاوہ کم قیمت پیلاجک مچھلیوں، جن میں سارڈین شامل ہیں، کی برآمدات تقریباً 14.9 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جنہیں گھریلو استعمال اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری میں ترجیح دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب چین کو پاکستان کے ابالے ہوئے گوشت کی برآمدات میں 2025 کے دوران غیر معمولی اضافہ ہوا۔ چین کسٹمز کے مطابق پاکستان نے 2.38 ملین کلوگرام ابالا ہوا بیف برآمد کیا، جس کی مجموعی مالیت 14.52 ملین ڈالر رہی۔
چین میں پاکستانی گوشت کی سب سے بڑی منڈیاں جیانگ سو، ژی جیانگ اور تیانجن رہیں، جہاں فوڈ پروسیسنگ، کیٹرنگ اور ریٹیل سیکٹر کے لیے بڑی مقدار میں درآمدات ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق چینی صارفین میں ریڈی ٹو کوک اور حلال سرٹیفائیڈ گوشت اور سی فوڈ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب، پاکستانی برآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ بنی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین پر بہتر عملدرآمد، پروسیسنگ یونٹس کی منظوری، کولڈ چین انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور مسابقتی قیمتوں کے باعث پاکستان چین کی گوشت اور سمندری غذاؤں کی منڈی میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کر رہا ہے۔














