کینیا کا اُوموجا گاؤں، خواتین کی پناہ گاہ، مردوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع

کینیا کے اُوموجا گاؤں میں صرف خواتین رہتی ہیں جبکہ مردوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ یہاں کی خواتین خود کو ظلم و زیادتی سے محفوظ سمجھتی ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
کینیا کا اُوموجا گاؤں، خواتین کی پناہ گاہ، مردوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع

کینیا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کینیا کے اُوموجا گاؤں میں صرف خواتین رہتی ہیں اور مردوں کا داخلہ مکمل طور پر ممنوع ہے۔ یہ گاؤں تقریباً ساڑھے تین دہائیاں قبل خواتین کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، جہاں خواتین اپنے حقوق خود طے کر سکتی ہیں۔اُوموجا کی رہائشی خواتین، زیادہ تر سامبورو برادری سے تعلق رکھتی ہیں، اور یہاں آکر وہ خود کو ظلم و زیادتی سے محفوظ سمجھتی ہیں۔ 26 سالہ کرسٹین ستیان نے اپنے شوہر کے تشدد سے بچنے کے بعد یہاں سکونت اختیار کی اور اب وہ خود کو آزاد محسوس کرتی ہیں۔گاؤں کی بانی ریبیکا لولوسولی اور دیگر خواتین نے مل کر مردوں کے غلبے سے آزاد ایک کمیونٹی قائم کی۔ اُوموجا میں خواتین موتیوں کے زیورات بیچ کر اور کیمپ سائٹ سے آمدنی حاصل کرتی ہیں۔خواتین نے یہ عزم کر لیا ہے کہ وہ دوبارہ شادی نہیں کریں گی اور اپنی خودمختاری کو ترجیح دیں گی۔ ستیان کے مطابق، وہ اب آزاد ماں ہونے پر فخر محسوس کرتی ہیں اور اپنے بچوں کی تعلیم کو یقینی بناتی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں