پاور سیکٹر میں نیا نگران ادارہ، شفافیت یا اختیارات کا تصادم؟

پاکستان کے بجلی کے شعبے میں نئے نگران ادارے کے قیام سے شفافیت یا اختیارات کے تصادم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاور سیکٹر میں نیا نگران ادارہ، شفافیت یا اختیارات کا تصادم؟

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)پاکستان کے بجلی کے شعبے میں اضافی نگران ادارے کی ضرورت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ موجودہ ریگولیٹرز، آڈیٹرز اور مارکیٹ آپریٹرز کی موجودگی کے باوجود شعبہ مالی خسارے اور انتظامی کمزوریوں کا شکار ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے قیام سے اختیارات کے تصادم کے خدشات ہیں۔

پاور ڈویژن کے تحت موجودہ ادارے جیسے نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی، نیشنل گرڈ کمپنی اور نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی پہلے ہی موجود ہیں۔ نئے ادارے کے قیام سے نگران اداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس پر شفافیت اور رابطہ کاری میں بہتری کے دعوے کے باوجود سوالات اٹھ رہے ہیں۔

منصوبہ بندی، کارکردگی کی جانچ اور نگرانی جیسے کام پہلے ہی نیپرا، سی پی پی اے اور دیگر ادارے انجام دے رہے ہیں۔ نئے ادارے سے انتظامی فیس وصول کی گئی ہے، جس کی باقاعدہ ریگولیٹری منظوری نہیں لی گئی تھی۔

پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی دراصل سابق پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی ہی کا نیا نام ہے، جسے 2021 میں کابینہ کی منظوری حاصل تھی۔ ماہرین کے مطابق اداروں کی تعداد بڑھانے کے بجائے اختیارات کی واضح تقسیم، دہراؤ کا خاتمہ اور ریگولیٹری خودمختاری کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں