پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے پیچھے تجارتی خسارہ اور روپے کی مصنوعی قدر شامل ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 43 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو وزارت خزانہ کی اقتصادی رپورٹ کے بعد مزید بڑھی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، جولائی تا نومبر 2025 کے دوران ایف ڈی آئی 92 کروڑ 74 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ 1 ارب 24 کروڑ 24 لاکھ ڈالر تھی، جو 34 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہے۔ اسی مدت میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں 61 کروڑ 38 لاکھ ڈالر کا انخلا ہوا، جبکہ پچھلے سال 14 کروڑ 87 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری آئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی کی بڑی وجوہات میں تجارتی خسارے میں اضافہ، معیشت کا بوم بسٹ سائیکل، قرضوں پر مبنی زرمبادلہ ذخائر اور روپے کی مصنوعی قدر شامل ہیں۔
سرمایہ کاری کے ماحول پر مزید سوالات اس وقت اٹھے جب 32 سعودی افراد و اداروں اور 5 کویتی سرمایہ کاروں نے کے-الیکٹرک سے متعلق تنازع پر پاکستان کے خلاف 2 ارب ڈالر کی بین الاقوامی ثالثی کارروائی شروع کی۔ اس تنازع میں ریگولیٹری مداخلت اور کے-الیکٹرک کی فروخت سے متعلق اختلافات شامل ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ثالثی مقدمات اور جرمانے مستقبل کے سرمایہ کاروں کے لیے منفی اشارہ ہیں۔ حکومت اور اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تحفظ اور بروقت فیصلوں کو یقینی بنائیں۔














