امریکا نے ایران کے خلاف بحری بیڑے کی تعیناتی اور پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھایا ہے جبکہ مذاکرات کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں بڑے بحری بیڑے کی تعیناتی اور ایران کے تجارتی شراکت داروں کے خلاف پابندیوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران سے مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور کئی میزائل بردار جنگی جہاز خطے میں پہنچ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام جنگ سے زیادہ دباؤ اور نفسیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ 12 روزہ تصادم نے امریکی اندازوں کو متاثر کیا ہے۔ محدود ایرانی میزائل حملوں کے باوجود اہم اسرائیلی اہداف کو نقصان پہنچا، جس سے ظاہر ہوا کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔ ایک اسرائیلی سکیورٹی تجزیہ کار کے مطابق ایران پر براہِ راست حملہ اب قابلِ عمل آپشن نہیں رہا۔
اسی تناظر میں اسلامی انقلاب گارڈز کور کے کمانڈرز نے واضح پیغامات دیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز پر مؤثر کنٹرول ایران کے پاس ہے اور کسی جارحیت کا جواب دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل اور عالمی ایل این جی کا بڑا حصہ گزرتا ہے، جس میں رکاوٹ عالمی منڈی کو متاثر کر سکتی ہے۔
خطرات خلیج تک محدود نہیں۔ یمن کی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں بحیرۂ احمر اور باب المندب میں امریکی جہاز نشانہ بن سکتے ہیں، جس سے امریکا کو بیک وقت دو اہم عالمی تجارتی راستوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے علاقائی ممالک کو آگاہ کیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کی صورت میں امریکی اور اتحادی اڈے ہدف بن سکتے ہیں۔ اسی باعث سعودی عرب اور قطر نے کشیدگی کم رکھنے پر زور دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق ٹرمپ وسیع جنگ کے بجائے محدود دباؤ، بحری نقل و حرکت یا بالواسطہ اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم امریکا کا حتمی فیصلہ اس بات سے جڑا ہے کہ ایران داخلی سطح پر کتنی سیاسی یکجہتی اور عسکری آمادگی ظاہر کرتا ہے، جو امریکی جنگی فیصلوں کو محدود اقدام تک روک سکتی ہے۔











