پنجاب میں نجی سطح پر رکھے گئے جنگلی جانور عوامی تحفظ کو خطرہ بن گئے، 29 شیر اور ٹائیگرز برآمد ہوئے ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب میں نجی سطح پر رکھے گئے جنگلی جانوروں کے باعث عوامی تحفظ کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ لاہور میں ایک پالتو شیر کے حملے سے 8 سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا جبکہ حکام نے 29 شیر اور ٹائیگرز برآمد کر لیے ہیں۔
وائلڈلائف رینجرز نے لاہور اور ملتان میں کارروائیوں کے دوران 29 شیر اور ٹائیگر برآمد کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نجی وائلڈ لائف بریڈنگ فارمز کو شیروں اور دیگر جانوروں کے لیے مناسب پنجرے بنانے کی مہلت ختم ہونے کے بعد یہ کریک ڈاؤن شروع کیا گیا۔
لاہور میں بیدیاں روڈ پر واقع فارم ہاؤس سے 20 سے زائد شیر اور ٹائیگر برآمد کیے گئے۔ وائلڈلائف حکام کے مطابق ملزم فیاض عرف فیضی اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ملتان میں عسکری بائی پاس کے قریب کارروائی میں 9 شیر اور ایک بندر برآمد ہوا۔ ملزم وقاص کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ یہ کریک ڈاؤن اس وقت شروع ہوا جب لاہور کے سبزہ زار علاقے میں پالتو شیر کے حملے میں ایک بچہ شدید زخمی ہوا۔ بچے کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا بازو کاٹنا پڑا۔














