چین نے اعلیٰ فوجی کمانڈر اور چیف آف اسٹاف کی مشتبہ بدعنوانی پر تحقیقات شروع کی ہیں، جو صدر شی جن پھنگ کی بدعنوانی کے خلاف مہم کا حصہ ہے۔
بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین نے اعلان کیا ہے کہ اس کے مرکزی فوجی کمیشن کے سینئر نائب چیئرمین اور ایک دیگر اعلیٰ اہلکار کو مشتبہ ‘سنگین نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں’ کے الزام میں تحقیقات کا سامنا ہے۔ یہ اعلان صدر شی جن پھنگ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔
چینی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق، ژانگ یو شیا اور لیو ژینلی کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔ ژانگ یو شیا چین کی سب سے اعلیٰ رینک والے جنرل ہیں اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی پولٹ بیورو کے رکن بھی ہیں۔
لیو، 61، سی ایم سی کے مشترکہ اسٹاف ڈیپارٹمنٹ کے چیف آف اسٹاف ہیں جو جنگی منصوبہ بندی کی نگرانی کرتا ہے۔ ژانگ اور لیو کی غیر حاضری کی افواہیں اس وقت زور پکڑ گئیں جب وہ شی جن پھنگ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔
شی جن پھنگ نے بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ ان کے حامی اس پالیسی کو صاف شفاف حکمرانی کے فروغ کا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک یہ سیاسی حریفوں کے صفائے کا ذریعہ بھی ہے۔











