حکومت نے اسلام آباد ایئرپورٹ کی نجکاری کے لیے اوپن بڈنگ کا آغاز کیا ہے، جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پی آئی اے کی نجکاری کے بعد حکومت نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی نجکاری کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق ایئرپورٹ کو طویل المدتی کنسیشن ماڈل کے تحت نجکاری پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
حکومت نے اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی آؤٹ سورسنگ کا فیصلہ کیا ہے، جو اوپن اور مسابقتی بولی کے ذریعے کی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایئرپورٹس کی کارکردگی میں بہتری، مسافروں کو معیاری سہولیات کی فراہمی اور آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نجکاری کے عمل کے تحت ایئرپورٹس کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور ملکی و بین الاقوامی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے اداروں کے ساتھ تعمیری بات چیت جاری ہے۔
نجکاری کمیشن نے وضاحت کی ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ کے حوالے سے ماضی میں کسی ملک یا ادارے کے ساتھ کوئی معاہدہ یا لیز طے نہیں ہوئی۔ کمیشن کے مطابق حکومت نے جی ٹو جی ماڈل کے بجائے اوپن بڈنگ کے ذریعے نجکاری کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ایئرپورٹس کی نجکاری شفافیت، مقابلے اور قومی معاشی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جا رہی ہے، تاکہ سہولیات میں بہتری، آمدنی میں اضافہ اور عالمی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔














