ڈیووس 2026، تین ہزار عالمی رہنما، طاقت اور اثر و رسوخ کے عالمی ایجنڈے پر متفق

ورلڈ اکنامک فورم کے ڈیووس اجلاس میں عالمی اشرافیہ جمع ہو کر عالمی نیٹ ورکنگ اور اثرورسوخ کے مواقع کا مرکز بناتے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ڈیووس: عالمی اشرافیہ کا مرکز، طاقت اور اثرورسوخ کا مقام

ڈیووس، سوئٹزرلینڈ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) 2026 میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں 3 ہزار رہنما، 400 سیاسی شخصیات اور 850 سی ای اوز نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ڈیووس کے خوبصورت پہاڑی قصبے میں ہوا، جہاں عالمی طاقت، سرمایہ اور اثر و رسوخ کے حامل افراد جمع ہوتے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کے بانی کلاوس شواب نے 1971 میں اسے ایک چھوٹے یورپی مینجمنٹ سیمینار کے طور پر شروع کیا تھا۔ اب یہ فورم عالمی نیٹ ورکنگ اور اثر و رسوخ کا مرکز بن چکا ہے جہاں سیاسی رہنما، سی ای اوز، انفلوئنسرز، اداکار، کھلاڑی اور سماجی کارکن شرکت کرتے ہیں۔

ڈیووس مین کی اصطلاح 2004 میں سیموئل پی ہنٹنگٹن نے وضع کی، جو عالمی اشرافیہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ افراد سرحدوں سے آزاد ہو کر عالمی نیٹ ورکس میں جڑے ہوتے ہیں اور دولت کی بجائے اثر و رسوخ کی اہمیت رکھتے ہیں۔

تنقید کے باوجود ڈیووس کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہاں عالمی ایجنڈے تشکیل پاتے ہیں اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے ڈیووس وومِن کی اصطلاح بھی متعارف کروائی گئی ہے، جو عالمی سرمائے اور گورننس کی زبان جانتی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں