مظاہرین پر تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے۔ عدالت نے پولیس کی جانب سے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق دونوں ملزمان کو ایف آئی آر نمبر 72/25، تھانہ سیکریٹریٹ کے تحت پولیس حراست میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ اس مرحلے پر جسمانی ریمانڈ ضروری نہیں، لہٰذا ملزمان کو جوڈیشل کسٹڈی میں بھیجا جا رہا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ملزمان کو 6 فروری 2026 کو دوبارہ پیش کیا جائے، جبکہ تفتیشی افسر کو دفعہ 173 ضابطہ فوجداری کے تحت رپورٹ آئندہ سماعت سے قبل جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
بعد ازاں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف تھانہ سیکریٹریٹ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ریاست علی آزاد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مظاہرین پر پولیس اہلکاروں پر تشدد، وردیاں پھاڑنے، اہلکاروں کو گھسیٹنے، اینٹی رائٹ کٹس اور وائرلیس سیٹ چھیننے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایف آئی آر میں سرکاری گاڑیوں کے شیشے توڑنے، پولیس ڈیوٹی میں رکاوٹ ڈالنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کا ذکر بھی شامل ہے۔
واضح رہے کہ عدالتی احاطے میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کے باعث ملزمان کی پیشی کے وقت آزادانہ تصدیق ممکن نہ ہو سکی، جبکہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد وکلا کو احاطہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ ملزمان کی جسمانی صحت سے متعلق بھی کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔














