اسلام آباد میں ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ کی گرفتاری پر اپوزیشن نے شدید مذمت کی ہے۔ گرفتاری کو شہری آزادیوں پر حملہ قرار دے کر فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سماجی کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چھٹہ کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جس پر ملک بھر میں سیاسی، قانونی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید ردِعمل پایا جاتا ہے۔ یہ گرفتاری شہری آزادیوں پر حملہ قرار دی جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اس گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو نشانہ بنانا آئینِ پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اظہارِ رائے کی آزادی اور بنیادی شہری حقوق مسلسل سلب کیے جا رہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے مزید کہا کہ قانون کو طاقتور طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنا قابلِ مذمت عمل ہے جس سے عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایمان زینب مزاری اور ہادی علی چھٹہ کو فوری رہا کیا جائے اور گرفتاری کے معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی اس گرفتاری کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ آئینی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کی گرفتاریاں جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہیں اور معاشرے میں خوف کی فضا کو فروغ دیتی ہیں۔ تحریک نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی انتقام کا سلسلہ بند کیا جائے۔















