امریکہ نے ڈیووس میں غزہ کے لیے مستقل امن کا منصوبہ پیش کیا، جس میں عبوری فلسطینی انتظامیہ اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی شامل ہے۔
ڈیووس: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ڈیووس میں ‘بورڈ آف پیس’ کے موقع پر غزہ کے مستقبل کا تفصیلی منصوبہ پیش کیا ہے، جس کا مقصد مستقل امن کا قیام بتایا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت غزہ کو فلسطینی انتظام کے تحت متحد رکھنے کا تصور پیش کیا گیا ہے، جو اسرائیلی انتہاپسند حلقوں کے عزائم کے برعکس ہے جن میں غزہ کی آبادی کی بے دخلی اور اسرائیلی آبادکاری شامل رہی ہے۔
جمعرات کو پیش کیے گئے اس منصوبے کے مطابق غزہ میں عبوری فلسطینی انتظامیہ قائم کی جائے گی، جبکہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی کو پہلے 100 دنوں کی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ پانی، نکاسیٔ آب، بجلی، اسپتالوں اور بیکریوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ اشیا کی ترسیل میں اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
منصوبے کی پریزنٹیشن امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے دی، جس میں جدید طرز کے رہائشی علاقوں، صنعتی زونز اور ہوائی اڈے کا تصور بھی شامل تھا۔ مصر اور غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ آئندہ ہفتے کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے، جو مئی 2024 کے بعد پہلی بار ٹریفک کے لیے کھولی جائے گی۔
غزہ میں ‘نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ’ قائم کی جائے گی، جو غیر جماعتی فلسطینی ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی کے سربراہ علی شعت نے کہا کہ مرحلہ وار نظم و ضبط کے ساتھ غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی اور وہاں ایک خود مختار، باوقار اور پرامن مستقبل کی بنیاد رکھی جائے گی۔
منصوبے کے مطابق مستقبل کے غزہ میں اسلحے کا اختیار صرف ایک اتھارٹی کے پاس ہوگا، جبکہ حماس کے بھاری ہتھیار فوری طور پر غیر فعال کیے جائیں گے۔ اسرائیلی فوج اس وقت تک مکمل انخلا نہیں کرے گی جب تک حماس کو غیر مسلح نہ کیا جائے۔
رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کا فیصلہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ میں زیر غور ہے، جہاں حکومتی اتحاد کے اندر شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔ منصوبے میں مستقبل کے غزہ کو خود مختار فلسطینی ریاست کا حصہ قرار نہیں دیا گیا، تاہم متحدہ فلسطینی انتظامیہ کے امکان کو بھی رد نہیں کیا گیا۔












