قومی اسمبلی میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ 3 سال میں 1200 سے زائد شخصیات کو سول اعزازات دیے گئے ہیں، جن میں سے 16 اعزازات کو مراعات کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
قومی اسمبلی میں آج قومی سول اعزازات اور ان سے منسلک مراعات کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ کابینہ سیکرٹریٹ نے ایوان کو مطلع کیا کہ گزشتہ 3 سالوں میں 1200 سے زائد شخصیات کو غیر معمولی کارکردگی پر سول اعزازات دیے گئے ہیں، جن میں سے 16 اعزازات کو مراعات کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نشان شجاعت حاصل کرنے والی شخصیت کو زندگی میں 15 لاکھ روپے اور بعد از وفات 18 لاکھ 75 ہزار روپے دیے جاتے ہیں۔ ہلال شجاعت کی صورت میں زندہ ہونے پر 12 لاکھ 50 ہزار روپے اور بعد از وفات 16 لاکھ 25 ہزار روپے ملتے ہیں۔ ستارہ شجاعت اور تمغہ شجاعت حاصل کرنے والوں کو بھی مالی انعامات دیے جاتے ہیں۔
کابینہ سیکرٹریٹ کے مطابق، سول اعزازات حاصل کرنے والوں کو وی آئی پی لاونج، گورنمنٹ گیسٹ ہاؤسز کے استعمال اور اسلحہ لائسنس سے استثنا حاصل ہوتا ہے۔ تاہم بعض اعزازات جیسے تمغہ پاکستان اور تمغہ امتیاز کو مراعات نہیں دی جاتیں۔
تفصیلات کے مطابق، سندھ حکومت نے 149، خیبر پختونخوا نے 114، پنجاب نے 74 اور بلوچستان نے 37 افراد کو سول اعزازات دیے۔ مختلف وزارتوں نے بھی متعدد شخصیات کو اعزازات سے نوازا ہے۔















