چاول برآمدات کے لیے حکومتی معاونت کی ضرورت

جام کمال خان نے عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے چاول برآمدکنندگان کو ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
چاول برآمدات کے لیے حکومتی معاونت کی ضرورت

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے دباؤ سے نمٹنے کے لیے چاول برآمدکنندگان کو ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے ذریعے معاونت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی چاول عالمی مارکیٹ میں مہنگا ہے، جس سے برآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

جام کمال خان نے خبردار کیا کہ حکومتی معاونت نہ ملی تو تقریباً 30 لاکھ ٹن چاول مقامی منڈی میں فروخت نہ ہو سکے گا، جس کا براہ راست مالی بوجھ کاشتکاروں پر پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کے باعث آئندہ سیزن میں کسان متبادل فصلوں کی طرف جا سکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت چین، انڈونیشیا اور فلپائن کے سفیروں سے بات چیت کر چکی ہے اور حکومت سے حکومت کے درمیان برآمدی انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر چاول کی برآمدات جی ٹو جی فریم ورک کے تحت ہوئیں تو ممکن ہے کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ استعمال نہ کرنا پڑے۔

وزیر تجارت نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان میں انڈونیشیا کے سفیر سے ملاقات بھی کی، جس میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں چاول کی برآمد کو اہم ترجیح قرار دیا گیا۔

حکام کے مطابق پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 2015 میں طے پانے والا چاول کا معاہدہ 2019 میں ختم ہو چکا تھا، جس کے تحت سالانہ 10 لاکھ میٹرک ٹن تک چاول جی ٹو جی بنیاد پر فراہم کیا جانا تھا۔ پاکستان نے اس معاہدے کا نیا مسودہ انڈونیشیا کو بھجوا دیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں