بورڈ آف پیس کیا ہے؟ پاکستان کی شمولیت پرتحفظات کیوں؟

غزہ جنگ بندی کے لیے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بورڈ آف پیس کیا ہے؟ پاکستان کی شمولیت پرتحفظات کیوں؟

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) غزہ جنگ بندی کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت پر ملک میں سیاسی اور سفارتی سطح پر شدید بحث ہو رہی ہے۔ یہ بورڈ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد غزہ میں سکیورٹی اور فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

چارٹر کے مطابق بورڈ آف پیس ایک نیا بین الاقوامی فورم ہے، جس کی رکنیت چیئرمین کی دعوت سے دی جاتی ہے۔ رکنیت کی مدت 3 سال مقرر ہے، تاہم پہلے سال میں 1 ارب ڈالر سے زائد فنڈ فراہم کرنے والے ممالک اس شرط سے مستثنیٰ ہوں گے۔ بورڈ کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جنہیں تمام فیصلوں پر ویٹو پاور حاصل ہوگی، جبکہ رکنیت میں توسیع بھی چیئرمین کی منظوری سے مشروط ہوگی۔

اب تک جن ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی حامی بھری ہے، ان میں پاکستان، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، آذربائیجان، آرمینیا، قازقستان، کوسوو، ہنگری، ویتنام، بیلاروس اور ارجنٹینا شامل ہیں۔ اس کے برعکس فرانس، ناروے اور سویڈن نے فورم سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ برطانیہ، جرمنی، اٹلی، چین اور کروشیا نے تاحال حتمی مؤقف اختیار نہیں کیا۔

پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مقصد غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر فعال کردار ادا کرنا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق پاکستان کسی ایسے فورم کا حصہ نہیں بنے گا جو فلسطینی حقِ خودارادیت یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہو۔

تاہم سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے پاکستان کی شمولیت پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کے بعد فلسطین کی حکمرانی بیرونی طاقتوں کے حوالے کرنا نوآبادیاتی سوچ کی عکاسی ہے۔ ان کے مطابق بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کو کمزور کرنے اور متوازی عالمی نظام مسلط کرنے کی کوشش ہے، جبکہ اس فورم میں پاکستان کی شمولیت اخلاقی طور پر غلط اور ناقابلِ دفاع ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت اور فلسطین کے لیے ایک الگ فورم کی تائید پاکستان کے مؤقف میں تضاد پیدا کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے پاکستان کی اخلاقی ساکھ اور خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اور حکومت کو اس معاملے پر پارلیمان کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔

سفارتی حلقوں کی جانب سے بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سابق مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ ملیحہ لودھی کے مطابق بورڈ آف پیس کا دائرہ کار غزہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے اختیارات اس سے کہیں آگے تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اس فورم میں اسرائیل کی شمولیت پاکستان کے اصولی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتی۔

واضح رہے کہ بورڈ آف پیس کے چارٹر میں کسی فلسطینی نمائندے کی شمولیت شامل نہیں، جس پر پاکستان سمیت مختلف ممالک میں تنقید کی جا رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان کے لیے یہ فورم ایک طرف سفارتی سرگرمی کا موقع ہے تو دوسری جانب ایک اخلاقی اور اصولی آزمائش بھی، جس پر آنے والے دنوں میں مزید سیاسی بحث متوقع ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں