قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2026 کی ترامیم منظور کر لیں، جس میں فیڈرل آئینی عدالت کو شامل کیا گیا ہے اور اسپیکر کو اثاثے شائع نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترمیمی بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ اس بل کے ذریعے الیکشنز ایکٹ کی مختلف دفعات میں ‘سپریم’ کی جگہ ‘فیڈرل آئینی عدالت’ شامل کی گئی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اراکین کے اثاثے شائع نہ کریں، اگر جان یا سیکورٹی کا خطرہ ہو۔ اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا ضروری ہوگا۔
ترمیم کے تحت الیکشن تنازعات میں فیڈرل آئینی عدالت کا کردار شامل کیا گیا ہے اور اپیلوں کا اختیار بھی اسی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے۔
قانون سازی کے اغراض و مقاصد میں شفافیت اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ اراکین کے اثاثوں کی زیادہ معلومات شائع کرنا خطرہ بن سکتا ہے۔















