پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا، جس کو آبی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر کرنے کے اقدام کو پاکستان کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ پاکستان نے اس کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عثمان جادون نے ایک عالمی پالیسی راؤنڈ ٹیبل کے دوران کہا کہ بھارت کے اقدامات معاہدہ کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے متعدد سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں، جن میں پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدہ قانونی طور پر نافذ ہے اور کسی بھی فریق کو یکطرفہ معطلی کی اجازت نہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان کی زرعی ضروریات کے 80 فیصد پانی کی فراہمی کرتا ہے اور 24 کروڑ افراد کے روزگار سے منسلک ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ عالمی سطح پر آبی عدم تحفظ ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے جو خوراک، توانائی، صحت اور انسانی سلامتی کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ملک ہے جہاں آبی نظام پر شدید دباؤ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کے شعبے میں استحکام کے لیے منصوبہ بندی کر رہا ہے تاہم مشترکہ دریائی نظاموں میں خطرات کا مقابلہ تنہا ممکن نہیں۔ پاکستان نے مطالبہ کیا کہ 2026 کی اقوام متحدہ واٹر کانفرنس سے قبل آبی عدم تحفظ کو عالمی خطرہ تسلیم کیا جائے۔












