کراچی: چین سے درآمد شدہ موٹر سائیکل کٹس کی کسٹمز ویلیو میں اضافے پر تنازعہ پیدا ہو گیا ہے، امپورٹرز نے ایف بی آر کے فیصلے کے خلاف پٹیشن دائر کی ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین سے درآمد ہونے والی غیر اسمبلڈ موٹر سائیکل کٹس کی کسٹمز ویلیو بڑھنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ کسٹمز ویلیوئیشن ڈائریکٹوریٹ نے چینی موٹر سائیکل پارٹس کی ویلیو میں اضافہ کیا ہے، جس سے اضافی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق ویلیو میں اضافے کا اطلاق رولر چین کٹ، سپروکیٹ سیٹ اور چین پارٹس سمیت مختلف اجزا پر کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ویلیوئیشن رولنگ 2034 تا 2026 نافذ کی گئی ہے، جس کے تحت درآمدی پارٹس کی کسٹمز ویلیو بڑھائی گئی ہے۔
امپورٹرز اور اسمبلرز نے اس فیصلے کے خلاف ایف بی آر کے سیکشن 25ڈی کے تحت پٹیشن دائر کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ویلیو میں اضافہ بین الاقوامی قیمتوں سے زیادہ ہے، جس کے ثبوت کے طور پر ایکچول ایکسپورٹر پرائس لسٹ پیش کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ مارکیٹ صورتحال میں کسٹمز ویلیو پرائس لسٹ کو غیر حقیقی قرار دیا گیا ہے اور ویلیوئیشن کاسٹ کی بنیاد پر متعین کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں مینوفیکچرنگ اخراجات، لیبر چارجز اور دیگر متعلقہ اخراجات شامل ہیں۔
کسٹمز ویلیوئیشن ڈائریکٹوریٹ نے امپورٹرز اور اسٹیک ہولڈرز کو نوٹس جاری کر کے کنسلٹیشن کا عمل شروع کیا ہے۔ نئے رولز پر نظر ثانی جاری ہے اور پچھلے امپورٹس پر لاگو ویلیوئیشن فارمولے کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔















