گل پلازہ میں آگ لگنے سے 26 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں اور غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے انخلا میں رکاوٹ پیش آئی۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے 26 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ آگ کیسے پھیلی، اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ واقعہ کراچی کے معروف تجارتی مرکز میں پیش آیا جہاں آگ نے چند گھنٹوں میں عمارت کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔
تحقیقات کے مطابق پلازہ میں 179 غیر قانونی دکانیں بنائی گئی تھیں جو زندگی کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات کو 2003 میں ریگولر کر دیا گیا تھا۔
آگ کے دن خارجی راستے دکانوں اور تجاوزات کی بنا پر بلاک ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے انخلا میں مشکلات پیش آئیں۔ اگر فائر سیفٹی کے تقاضے پورے کیے گئے ہوتے تو یہ سانحہ نہیں ہوتا۔
شہر کی تاریخ میں ایسے واقعات پہلے بھی ہوچکے ہیں، جیسے کہ 2015 میں ریجنٹ پلازہ اور 2021 میں گورنگی کی فیکٹری میں آگ۔ ہر بار کمیٹیاں بنیں اور سفارشات دفن ہو گئیں۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد سیاسی جماعتوں میں الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان غیر قانونی تعمیرات کی اجازت کس نے دی اور کس نے آنکھیں بند کیں۔















