سندھ حکومت نے تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر دیا اور بین الاقوامی معیار کا گریڈنگ نظام لاگو کر دیا ہے، جس کے تحت 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل تصور ہوں گے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں نمبر سسٹم ختم کر دیا ہے اور بین الاقوامی معیار کے نئے گریڈنگ نظام کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ فیل تصور ہوں گے۔ وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو نے بتایا کہ اس فیصلے کا اطلاق مرحلہ وار ہوگا، جس کا آغاز 2026 میں 9 ویں اور 11 ویں جماعت کے امتحانات سے کیا جائے گا۔
اسماعیل راہو نے کہا کہ 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت کے امتحانات پر بھی اس نظام کا اطلاق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نئے گریڈنگ سسٹم میں طلبہ کی کارکردگی کو مختلف گریڈز میں تقسیم کیا جائے گا، جیسے اے ڈبل پلس (A++) 96 سے 100 فیصد، اے پلس (A+) 91 سے 95 فیصد وغیرہ۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پاسنگ مارکس کی کم از کم حد 40 فیصد مقرر کی گئی ہے اور ناکام طلبہ کو دوبارہ امتحان دینے کا موقع دیا جائے گا تاکہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنا سکیں۔ اس نظام کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت لانا ہے اور مستقبل میں جی پی اے سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔















