قومی ٹرانسمیشن نظام مہنگی بجلی کی بڑی وجہ قرار، نیپرا رپورٹ میں انکشاف

نیپرا نے قومی ٹرانسمیشن نظام میں اوورلوڈنگ کے باعث سستی بجلی کی ترسیل متاثر ہونے کی نشاندہی کی ہے، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
قومی ٹرانسمیشن نظام اوورلوڈنگ کا شکار، نیپرا رپورٹ میں انکشاف

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کا قومی ٹرانسمیشن نظام اوورلوڈنگ اور کم استعمال جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث سستی بجلی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ نیپرا کے مطابق یہ صورتحال بجلی کی مہنگی پیداوار کے استعمال کا سبب بن رہی ہے، جو میرٹ آرڈر کے خلاف ہے۔

نیپرا کی جائزہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے اختتام پر 500 کے وی اور 220 کے وی ٹرانسمیشن لائنیں زیادہ تر اوورلوڈ رہیں، خاص طور پر گرمیوں میں۔ 68 گرڈ اسٹیشنز پر نصب 192 میں سے 116 ٹرانسفارمرز 80 فیصد سے زائد صلاحیت پر چلتے رہے، جو تکنیکی خرابی اور وولٹیج عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق 500/220 کے وی سطح پر 47 میں سے 30 جبکہ 220/132 کے وی سطح پر 145 میں سے 86 ٹرانسفارمرز شدید دباؤ کا شکار رہے۔ خاص طور پر حیدرآباد، اسلام آباد، لاہور اور ملتان کے علاقوں میں صورتحال تشویشناک رہی۔

ان مسائل کے باعث ساہیوال کول پاور پلانٹ سے مکمل بجلی ترسیل ممکن نہ ہو سکی، جبکہ مہنگے پلانٹس پر انحصار بڑھ گیا۔ نیپرا کے مطابق جنوبی علاقوں میں موجود سستی بجلی شمالی علاقوں تک نہیں پہنچ پاتی، جس سے وہاں مہنگی بجلی پیدا کرنا پڑتی ہے۔

نیپرا کے مطابق جامشورو اور مٹیاری کے 500 کے وی گرڈ اسٹیشنز پر رکاوٹوں کے باعث 4500 میگاواٹ دستیاب صلاحیت کے باوجود صرف 1800 میگاواٹ بجلی منتقل کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں 1750 میگاواٹ تک سستی بجلی بار بار ضائع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح کراچی کے دو ایٹمی بجلی گھروں سے 2000 میگاواٹ سے زائد بجلی کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ستمبر 2021 میں مکمل ہونے والی 4000 میگاواٹ مٹیاری۔لاہور ایچ وی ڈی سی لائن، لاہور نارتھ سب اسٹیشن کی تاخیر کے باعث مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکی۔ مالی سال 2024-25 میں اس لائن کا اوسط استعمال صرف 1401 میگاواٹ رہا، جو کل صلاحیت کا تقریباً 35 فیصد بنتا ہے۔

نیپرا نے فوری طور پر اہم ٹرانسمیشن منصوبوں کی تکمیل، سب اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن اور جدید مانیٹرنگ سسٹمز متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔ بروقت اصلاحات نہ ہونے کی صورت میں بجلی کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں