ایم کیو ایم نے سندھ اسمبلی میں گل پلازہ سانحے پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت کی نااہلی پر تنقید کی اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم نے سانحہ گل پلازہ پر سندھ حکومت کی نااہلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ ایم کیو ایم نے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
سندھ اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت ہوا، جہاں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے لئے خصوصی دعا کی گئی۔ ایم کیو ایم کے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا اور نعرے لگائے۔
سعید غنی نے کہا کہ سانحہ کو سیاسی رنگ مت دیں، حکومت اپنی کوتاہیاں اجاگر کرنے میں مشکور ہے۔ آگ بجھانے کے عمل میں انتظامیہ نے بھرپور حصہ لیا تھا اور 70 افراد لاپتہ ہیں، جن میں سے 8 کی لاشیں ملی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس طلب کیا اور فی کس ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ تحقیقات کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے جو نقصانات کا تخمینہ لگائے گی۔
جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی اور کہا کہ حکومتی بوسیدہ نظام بے نقاب ہو چکا ہے۔ ایم کیو ایم نے ڈپٹی کمشنر کراچی ایسٹ کے خلاف تحریک استحقاق بھی جمع کروائی۔















