کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی نے 26 افراد کی جان لے لی۔ آگ پر قابو پانے میں 35 گھنٹے لگے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) شہر قائد کے مصروف ترین علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں چند دن قبل لگنے والی آتشزدگی نے 26 افراد کی جان لے لی۔ آگ گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر گھریلو سجاوٹ کی دکان میں لگی اور تیزی سے پوری مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
آگ پر قابو پانے میں 35 گھنٹے لگے، جس دوران ابتدائی طور پر 7 افراد جاں بحق اور 18 زخمی ہوئے، جن میں سے 7 کی حالت تشویشناک تھی۔ بعد ازاں، عمارت کے ملبے سے مزید لاشیں برآمد ہوئیں، جن کی تعداد 26 ہو گئی۔ 70 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
گذشتہ دہائی میں کراچی میں کئی خطرناک آتشزدگی کے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں 2023 میں کریم آباد اور آر جے شاپنگ مال میں آگ لگنے کے واقعات شامل ہیں۔ سابقہ واقعات میں بھی کئی جانیں ضائع ہوئیں، جیسا کہ 2012 میں بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں 289 افراد جان سے گئے۔
کراچی میں آتشزدگی کے ہلاکت خیز واقعات گزشتہ برسوں میں شہری سلامتی اور فائر سیفٹی کے سنگین مسائل کو اجاگر کرتے رہے ہیں۔ مختلف تجارتی مراکز، فیکٹریوں اور صنعتی علاقوں میں پیش آنے والے بڑے واقعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
-
17 جنوری 2026: کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 28 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔
-
دسمبر 2023: کریم آباد کے عرشی شاپنگ مال میں آگ لگنے سے 4 افراد جان سے گئے اور پوری مارکیٹ متاثر ہوئی۔
-
نومبر 2023: آر جے شاپنگ مال کے چوتھے فلور پر آتشزدگی کے باعث 11 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے۔
-
اپریل 2023: نیو کراچی صنعتی ایریا میں واقع ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے 4 فائر فائٹرز اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔
-
2021: گورنگی کے مہران ٹاؤن میں فیکٹری میں آتشزدگی سے 16 ملازمین ہلاک ہوئے۔
-
2021: صدر کے علاقے میں واقع کوآپریٹیو مارکیٹ اور وکٹوریہ سینٹر میں آگ لگنے سے تمام دکانیں جل گئیں۔
-
2015: ریجنٹ پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 75 سے زائد زخمی ہوئے۔
-
2012: بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں آتشزدگی کراچی کی تاریخ کا سب سے مہلک واقعہ ثابت ہوا، جس میں 289 ملازمین جاں بحق ہوئے۔
واضح رہے کہ ان مسلسل واقعات نے کراچی میں فائر سیفٹی قوانین کے نفاذ، عمارتوں کے حفاظتی انتظامات اور ہنگامی ردعمل کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق مؤثر نگرانی اور بروقت اقدامات سے قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
فائر بریگیڈ کے پاس محدود وسائل کی وجہ سے آگ بجھانے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جبکہ حالیہ واقعے کے بعد سندھ حکومت نے ایک بار پھر فائر سیفٹی آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے۔















