سردی کے موسم میں سبزیوں کی قیمتوں میں غیرمعمولی کمی واقع ہوئی ہے، جس سے کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ زائد پیداوار اور ناقص ہینڈلنگ کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملک بھر میں سردی کے موسم کے دوران سبزیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے، جس سے کاشتکاروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق زائد پیداوار، ناقص ہینڈلنگ اور کمزور سپلائی چین کی وجہ سے یہ صورتحال ہر تین سے چار سال بعد دہرائی جاتی ہے۔
سندھ کے ٹماٹر اور پنجاب کے آلو کے کاشتکار خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ ٹھٹھہ کے ایک کاشتکار نے بتایا کہ مقامی منڈیوں میں ٹماٹر کی قیمت 10 روپے فی کلو تک گر گئی ہے، جو پیداواری لاگت بھی پوری نہیں کرتی۔ اسی طرح لاہور میں آلو کا تھیلا جو گزشتہ سال 2,000 سے 2,500 روپے میں فروخت ہوا تھا، اب صرف 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
سبزی منڈیوں کے تاجروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ زمینی تجارت بند ہونے کی وجہ سے سبزیوں کی برآمد رک گئی، جس سے مقامی منڈیوں میں زائد رسد پیدا ہو گئی ہے۔ دسمبر کے آخر میں بعض علاقوں میں ٹماٹر 6 سے 7 روپے فی کلو تک فروخت ہوا، جبکہ پیاز، آلو اور مٹر کی قیمتیں بھی غیر معمولی طور پر گر گئیں۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ رہنمائی کے فقدان کے باعث کسان ایک ہی وقت میں ایک ہی فصل کاشت کرتے ہیں، جس سے منڈی میں سپلائی اچانک بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق سیٹلائٹ ڈیٹا پر مبنی فصلوں کی منصوبہ بندی کی بات کی گئی تھی، مگر عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔
پیاز کی فصل کو سندھ میں بیماری کا سامنا بھی رہا، اور تحقیقاتی اداروں کی عدم توجہ کے باعث کسانوں کو مزید نقصان اٹھانا پڑا۔ زرعی ماہرین کے مطابق ملک میں کولڈ اسٹوریج اور پروسیسنگ کا نظام انتہائی محدود ہے، جس سے زیادہ تر پیداوار ضائع ہو جاتی ہے۔














