مری میں برف باری کی کمی کے باعث سیاحتی کاروبار متاثر ہوا، تاجروں کے مطابق سیاحوں کی تعداد میں 50 فیصد کمی دیکھی گئی۔
مری: (رائیٹ ناوٴ نیوز) رواں سال مری اور دیگر پہاڑی علاقوں میں برف باری کی کمی کے باعث سرمائی تعطیلات کے دوران سیاحتی کاروبار شدید متاثر ہوا ہے۔ تاجروں اور ہوٹل مالکان کے مطابق برف باری کے سیزن کے لیے کی گئی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق مری میں برف باری کا سیزن 15 فروری سے ختم تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ رمضان کا آغاز فروری کے تیسرے ہفتے میں متوقع ہے، جس کے باعث سرمایہ کار رمضان سے قبل مری چھوڑ دیں گے۔
پنجاب بھر میں 19 جنوری سے اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے دوبارہ کھلنے سے سیاحتی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑا ہے، جس کے نتیجے میں مری کے ہوٹل، ریسٹورنٹس اور گیسٹ ہاؤسز خالی نظر آ رہے ہیں۔
تاجروں کے مطابق ٹرانسپورٹ کے زیادہ کرائے، مہنگی خوراک اور ہوٹلوں کے بلند نرخوں نے برف باری کے سیزن کو مزید نقصان پہنچایا۔ اس سال برف باری 10 سے 12 دن تاخیر سے ہوئی اور انتہائی ہلکی رہی۔
ماضی میں مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں خاندان مری کا رخ کرتے تھے، تاہم اس سال گزشتہ 50 برسوں کے مقابلے میں سیاحوں کی تعداد نمایاں طور پر کم رہی۔ تاجروں کے مطابق مری آنے والے سیاحتی خاندانوں کی تعداد میں 50 سے 52 فیصد کمی دیکھی گئی۔
ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں کمروں کی قلت پیدا نہ ہو سکی اور چیئر لفٹ پر بھی رش دیکھنے میں نہیں آیا۔ مہنگائی کی وجہ سے بچوں کی تفریحی سرگرمیوں کے نرخ میں بھی 100 فیصد اضافہ ہوا۔
تاجروں کے مطابق ماضی میں ایک خاندان کا مری کا سفر 50 ہزار روپے میں مکمل ہو جاتا تھا، جبکہ اب یہی خرچ بڑھ کر 250 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ مری پرائس کنٹرول کمیٹی خوراک کی قیمتیں قابو میں رکھنے میں ناکام رہی۔














