پاکستان کی تیل سپلائی چین میں بہتری سے زرمبادلہ کی بچت ممکن ہے، فوٹکو نے نئی حکمت عملی اپنائی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
پاکستان کی تیل کی سپلائی چین میں موجود ساختی خامیاں ہر سال ملکی معیشت پر بھاری مالی بوجھ ڈال رہی ہیں جنہیں بہتر انتظام اور ڈیٹا پر مبنی فیصلوں کے ذریعے نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ فوٹکو گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کی مرکزی آئل جیٹی چلا رہا ہے، جو پورٹ قاسم پر واقع واحد آئل جیٹی ہے۔
یہ جیٹی سالانہ 150 سے زائد بحری جہاز ہینڈل کرتی ہے اور پاکستان میں درآمد ہونے والے 70 فیصد سے زائد سفید تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 40 فیصد سے زائد جہاز laycan مدت سے تجاوز کر گئے، جو ایک سنجیدہ نظامی مسئلہ ہے۔
جہازوں کی تاخیر بندرگاہ پر رش کا باعث بنتی ہے، جس کے نتیجے میں جہاز مالکان کی جانب سے ڈیمریج چارجز وصول کیے جاتے ہیں۔ یہ لاگت تیل درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ادا کرنا پڑتی ہے، جو کروڑوں ڈالر کے زرمبادلہ کے اخراج کا سبب بنتی ہے۔
فوٹکو کے 500 سے زائد جہازوں پر کیے گئے ڈیٹا پر مبنی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ تاخیر کی بنیادی وجوہات جہازوں کی سست پمپنگ رفتار اور وصول کرنے والے ذخیرہ ٹرمینلز کی محدود استعداد ہیں۔ اگر ان عوامل کو درست کر لیا جائے تو سالانہ تقریباً 1700 برتھنگ گھنٹے بچائے جا سکتے ہیں۔
فوٹکو نے یکم جنوری 2026 سے ایسے جہازوں پر جرمانہ عائد کرنے کا نظام متعارف کرایا ہے جو اپنی خود طے شدہ پمپنگ رفتار پوری نہیں کرتے۔ اس نظام کا مقصد نظم و ضبط کو بہتر بنانا ہے، تاہم صرف سزاؤں کے ذریعے مکمل بہتری ممکن نہیں۔














