ٹیکس چوری اور اسمگلنگ سے سالانہ ایک ہزار ارب روپے کا نقصان

پاکستان کو ٹیکس چوری اور اسمگلنگ سے سالانہ ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے، غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ٹیکس چوری اور اسمگلنگ سے سالانہ ایک ہزار ارب روپے کا نقصان

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) معروف ریسرچ انسٹیٹیوٹ اپسوس نے کہا ہے کہ پاکستان کو ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے باعث سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔ ادارے نے غیر قانونی تجارت کے خلاف سخت کارروائی کو ٹیکس خسارے کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 330 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی وجہ سے مختلف شعبوں میں یہ نقصان ہو رہا ہے۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سالانہ تقریباً 500 ارب روپے کی ٹیکس چوری ہوتی ہے جبکہ غیر قانونی تمباکو کی تجارت میں 310 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ ٹائرز، لبریکنٹس، فارماسیوٹیکلز اور چائے سمیت دیگر بڑی صنعتوں میں بھی ٹیکس چوری جاری ہے۔

معاشی تجزیہ کار اسامہ صدیقی نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس چوری کے خاتمے اور غیر قانونی تجارت کے خلاف اقدامات تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ریگولیٹری نظام کے مضبوط نفاذ سے مالیاتی استحکام ممکن ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں