منی سوٹا میں آئس کے خلاف مظاہروں میں شدت آنے پر صدر ٹرمپ نے فوج کی تعیناتی کی دھمکی دے دی ہے۔
منی سوٹا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی ریاست منی سوٹا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کے خلاف مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کی تعیناتی کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ریاستی حکام قانون پر عمل درآمد یقینی بنائیں ورنہ انسریکشن ایکٹ کے تحت فوجی دستے بھیجے جائیں گے۔ یہ مظاہرے آئس ایجنٹ کی فائرنگ سے ایک امریکی خاتون کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے اور مقامی آبادی اور وفاقی اہلکاروں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
صدر ٹرمپ کی دھمکی وینزویلا کے شہری کو گولی لگنے کے واقعے کے بعد سامنے آئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ فرار کی کوشش کر رہا تھا اور افسر پر حملہ آور ہوا، جس پر فائرنگ کی گئی۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر منی سوٹا کے سیاستدانوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے پہلے ہی تین ہزار وفاقی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔
منی سوٹا کی صورتحال پر ٹرمپ انتظامیہ اور ریاستی حکام ایک دوسرے کو تشدد کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ انسریکشن ایکٹ 1807 کا قانون امریکی صدر کو بغاوت یا بدامنی کی صورت میں فوج تعینات کرنے کا اختیار دیتا ہے۔















