ماہرین دل کی صحت کے لیے روزانہ تیل کی مقدار بیس سے پچیس گرام تجویز کرتے ہیں، جبکہ زیادہ تیل دل کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سردیوں میں تلی ہوئی غذاؤں کا استعمال بڑھ جاتا ہے، مگر ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ زیادہ تیل دل کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ماہرینِ امراضِ قلب کے مطابق روزانہ تین سے چار چمچ، یعنی بیس سے پچیس گرام تیل کافی ہوتا ہے۔ ہفتہ وار ڈیڑھ سو سے ایک سو ستر گرام اور ماہانہ چھ سو سے سات سو گرام کا استعمال مناسب ہے۔
بازار کے تلے ہوئے کھانے، بیکری مصنوعات اور پیکٹ بند غذائیں تیل کی مقدار کو بڑھا دیتی ہیں اور دل کی صحت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ فاسٹ فوڈ میں استعمال ہونے والا تیل نہ صرف زیادہ ہوتا ہے بلکہ اکثر ان کا معیار بھی اچھا نہیں ہوتا، جو دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزمرہ کھانا پکانے کے لیے سرسوں یا مونگ پھلی کا تیل مناسب ہے، جبکہ رائس بران اور سورج مکھی کے تیل کا استعمال محدود مقدار میں ہونا چاہیے۔ زیتون کا تیل سلاد یا ہلکی پھلکی کوکنگ کے لیے بہتر ہے جبکہ گھی اور مکھن کا استعمال کم کیا جائے۔
کھانا پکانے کے طریقوں میں نان اسٹک یا لوہے کی کڑاہی کا استعمال، تیل ناپ کر ڈالنا اور بھاپ میں پکانے جیسے طریقے دل کی صحت کے لیے مفید ہیں۔ بچوں اور بزرگ افراد کے کھانوں میں خاص طور پر تیل کی مقدار پر توجہ دینا ضروری ہے تاکہ موٹاپے اور دل کے مسائل سے بچا جا سکے۔















