بھارت میں مسلمانوں پر ریاستی جبر کا انکشاف

عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم ریاستی جبر اور انتہا پسند عناصر کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بھارت میں مسلمانوں پر ریاستی جبر کا انکشاف

نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو منظم ریاستی جبر کا سامنا ہے۔

ساؤتھ ایشیا جسٹس کیمپین کی رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50 مسلمان جاں بحق ہوئے، جبکہ ہندوتوا انتہا پسندوں کے حملوں میں 23 افراد شہید ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلم مخالف تقاریر کے نتیجے میں 13 ریاستوں میں 26 سے زائد منظم تشدد کے واقعات پیش آئے، جن میں اترپردیش میں سب سے زیادہ 6 مسلمان جاں بحق ہوئے۔

گائے کے نام پر تشدد کے واقعات میں 9 مسلمان شہید ہوئے جبکہ 3 افراد کو شدید تشدد کے بعد خودکشی پر مجبور کیا گیا۔

مقبوضہ کشمیر، آسام، اترپردیش اور دیگر علاقوں میں 17 سے زائد مسلمان اور 2 بچے ریاستی درندگی کا نشانہ بنے، جبکہ 4 ہزار سے زائد بنگالی مسلمانوں کو غیرقانونی طور پر بے دخل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق املاک کی مسماری اور بے دخلی بھارتی ریاست کی پہچان بنی رہی، جو سماجی ہم آہنگی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں