پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے کمیٹیوں سے استعفے کا فیصلہ مہنگا پڑا، حکومتی ارکان نے 28 بل یک طرفہ منظور کر لیے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے کمیٹیوں سے استعفے کا فیصلہ مہنگا پڑ گیا۔ اسمبلی ذرائع نے بتایا کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود استعفے منظور نہیں کیے گئے، جس کے باعث حکومتی ارکان یک طرفہ قانون سازی میں مصروف ہیں۔
پنجاب اسمبلی سے اپوزیشن کی رائے کے بغیر 28 بل منظور کر لیے گئے، جس سے اپوزیشن کا پارلیمانی کردار کمزور ہوا اور حکومت کو قانون سازی میں مکمل آزادی ملی۔
سیاسی ذرائع کے مطابق اپوزیشن مؤثر احتجاجی حکمت عملی نہیں بنا سکی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون کی چیئرمین شپ سے بھی محروم ہوگئی۔
مزید بتایا گیا کہ اپوزیشن آٹھ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی چیئرمین شپ سے بھی محروم ہو چکی، جس کے باعث اسمبلی میں ان کا اثر و رسوخ کم ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر اپوزیشن نے پارلیمانی حکمت عملی پر نظر ثانی نہ کی تو مستقبل میں بھی قانون سازی میں اس کا کردار محدود رہے گا۔














