بھارت میں 2025 کے دوران مسلمانوں کے خلاف 1,318 نفرت انگیز تقاریر ریکارڈ کی گئیں، جن میں زیادہ تر بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیر حکمرانی ریاستوں میں ہوئیں۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر منظم رجحان بن گئی ہیں۔ 2025 کے دوران ملک بھر میں 1,318 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جن میں اکثر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ رپورٹ India Hate Lab نے جاری کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اوسطاً روزانہ 4 واقعات سامنے آئے، جبکہ 90 فیصد واقعات ان ریاستوں میں ہوئے جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی یا اس کے اتحادی حکومت میں ہیں۔ اعداد و شمار سے حکمرانی اور نفرت انگیز تقاریر کے پھیلاؤ کے درمیان تعلق ظاہر ہوتا ہے۔
نفرت انگیز تقاریر انتخابی ادوار تک محدود نہیں رہیں، بلکہ غیر انتخابی سال میں بھی تعداد بلند رہی، جو فرقہ وارانہ بیانیے کی روزمرہ حکمرانی میں شمولیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک چوتھائی تقاریر میں تشدد کی براہ راست اپیلیں کی گئیں، جبکہ دیگر خطابات میں سماجی و معاشی بائیکاٹ، عبادت گاہوں کے انہدام کے مطالبات اور اسلحہ رکھنے کی ترغیب شامل رہی۔
اعلیٰ سطحی سیاسی شخصیات بھی ان تقاریر میں شامل رہیں، جن میں بعض سازشی نظریات کو فروغ دیا گیا۔ پولیس کارروائی کم دیکھنے میں آئی، جبکہ سوشل میڈیا پر تشہیر ہوتی رہی، جو جوابدہی اور قانون کے نفاذ کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس رجحان کے اثرات سماجی ہم آہنگی، آئینی مساوات اور اقلیتی تحفظات پر مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ عالمی سطح پر بھارت کے جمہوری تشخص پر بھی توجہ بڑھی ہے۔















