فرینکفرٹ میں ہائیم ٹیکسٹائل نمائش میں پاکستانی قالینوں کو یورپی خریداروں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی، جہاں ہاتھ سے بنے قالینوں کے منفرد ڈیزائن نے توجہ حاصل کی۔
فرینکفرٹ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) دنیا کی سب سے بڑی ہوم ٹیکسٹائل نمائش ہائیم ٹیکسٹائل میں پاکستانی قالینوں کو یورپی خریداروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی ہے۔ یہاں ہاتھ سے بنے قالینوں کے ڈیزائن، رنگوں اور روایتی کاریگری نے خاص توجہ حاصل کی۔
نمائش میں قائم پاکستانی پویلین دن بھر خریداروں سے بھرا رہا، جہاں قالین بچھا کر فوری سودے طے کیے گئے اور مستقبل کے کاروبار کے لیے رابطے بھی ہوئے۔ برآمد کنندگان کے مطابق کئی معاہدے چند ہی منٹوں میں مکمل ہو گئے۔
امریکی مارکیٹ کے بعد پاکستانی قالین برآمد کنندگان نے اب یورپ کا رخ کر لیا ہے۔ بھارتی مصنوعات پر امریکا کی جانب سے اضافی ٹیرف عائد ہونے کے بعد پاکستانی قالینوں کی مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے زوال پذیر قالین صنعت کی بحالی کی امید پیدا ہوئی ہے۔
نمائش میں شریک برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ توقعات کے برعکس ردعمل انتہائی حوصلہ افزا رہا، جس کے بعد یورپی منڈی میں مستقل بنیادوں پر موجودگی کی سنجیدہ کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر روایتی ہاتھ سے بنے پاکستانی قالین نمائش کی نمایاں ترین مصنوعات میں شامل رہے۔
قالین صنعت نے برآمدات کو ماضی کی بلند ترین سطح 350 ملین ڈالر سے بڑھا کر 500 ملین ڈالر تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ہائیم ٹیکسٹائل میں پہلی بار پاکستانی قالینوں کے لیے قومی پویلین قائم کیا گیا، جہاں 10 کمپنیوں نے شرکت کی، جن میں زیادہ تر چھوٹے برآمد کنندگان شامل ہیں۔
پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عتیق الرحمان نے نمائش میں پاکستان کی مضبوط شرکت اور خریداروں کے مثبت ردعمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2000 تک قالین برآمدات 350 ملین ڈالر تک پہنچ چکی تھیں، جو اب کم ہو کر تقریباً 70 ملین ڈالر رہ گئی ہیں۔
شرکت کرنے والی کمپنیوں کے نمائندوں نے بتایا کہ بیشتر قالین نمائش کے ابتدائی دو دنوں میں فروخت ہو گئے، جبکہ یورپی خریداروں نے پاکستانی قالینوں کے ہاتھ سے تیار ہونے، معیار اور منفرد ڈیزائن کو سراہا۔















