امریکی ایلچی نے غزہ کے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے، جس میں غیر فوجی بنانے اور عبوری حکومت کے قیام کا منصوبہ شامل ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے تیار کردہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ اس مرحلے میں غزہ کی غیر فوجی بنانے اور تعمیر نو کی عبوری ٹیکنوکریٹک حکومت کا قیام شامل ہے۔
اسٹیو وِٹکوف نے بیان میں کہا کہ نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ (این سی اے جی) کے تحت عبوری انتظامیہ قائم کی جائے گی۔ مقصد غیر مجاز مسلح عناصر کو غیر مسلح کرنا اور تعمیر نو کا آغاز ہے۔
امریکی ایلچی نے حماس پر زور دیا کہ وہ ذمہ داریاں پوری کرے، بشمول یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عدم عمل درآمد کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
پہلے مرحلے میں انسانی امداد فراہم کی گئی، جنگ بندی برقرار رہی، زندہ یرغمالی رہا کرائے گئے اور 28 میں سے 27 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں واپس لائی گئیں۔
وِٹکوف نے مصر، ترکیہ اور قطر کی ثالثی کوششوں کو سراہا۔ اکتوبر میں نافذ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے 1200 خلاف ورزیاں کیں، جس سے 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے۔














