شوکت عزیز صدیقی نے این آئی آر سی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیا جب انہیں یہ عہدہ بطور ازالہ دیا جانا محسوس ہوا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی صنعتی تعلقات کمیشن (این آئی آر سی) کے مستعفی چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے بتایا ہے کہ جب انہیں چیئرمین شپ بطور ازالہ دیے جانے کا احساس ہوا تو انہوں نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا۔
شوکت عزیز صدیقی نے سپریم کورٹ بار کے نائب صدر کے اعزاز میں منعقدہ الوداعی ریفرنس میں کہا کہ وفاقی وزیرقانون نے نومبر 2024 میں انہیں چیئرمین این آئی آر سی کی ذمہ داری سنبھالنے کو کہا تھا اور 4 دسمبر 2024 کو انہوں نے چارج سنبھالا تھا۔ اس وقت ادارے کو بند کرنے کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ این آئی آر سی میں زیر التوا کیسز کی تعداد 5380 تھی جن میں سے 5261 کیسز نمٹائے گئے جبکہ 5522 نئے کیسز دائر ہوئے، جس کی وجہ لوگوں کا ادارے پر بڑھتا ہوا اعتماد تھا۔
سابق جج نے وضاحت کی کہ وہ عہدوں کے پیچھے نہیں بھاگتے اور این آئی آر سی کی چیئرمین شپ کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے کریئر کو نقصان پہنچانے والوں کا معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں۔














