پاکستان نے افغان ٹرانزٹ تجارت کے تحت پھنسے کنٹینرز کی دوبارہ برآمد کی اجازت دی ہے تاکہ افغان درآمد کنندگان کو ڈیمرج چارجز سے بچایا جا سکے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حکومت نے پاکستانی بندرگاہوں پر پھنسے ہوئے افغان ٹرانزٹ کارگو کی دوبارہ برآمد کی اجازت دی ہے تاکہ افغان درآمد کنندگان کو بڑھتے ہوئے ڈیمرج چارجز سے بچایا جا سکے۔ سرحدی بندش کے باعث ہزاروں کنٹینرز کئی ماہ سے کراچی بندرگاہوں پر رکے ہوئے تھے۔
وزارت تجارت نے درآمد کنندگان کو اجازت نامے جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔ کراچی بندرگاہوں پر پھنسے 6,500 کنٹینرز میں سے 3,000 کنٹینرز ملائیشیا سے درآمد شدہ پام آئل پر مشتمل ہیں، جو افغانستان میں خوردنی استعمال کے لیے تھا۔
کسٹمز حکام کے مطابق چمن اور طورخم بارڈر پر پھنسے کنٹینرز کی تعداد 600 سے 700 کے درمیان ہے۔ چین اور ویتنام سے آنے والا سامان بھی انہی بندرگاہوں پر رکا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کے اس فیصلے سے افغان درآمد کنندگان کو متبادل بندرگاہوں یا راستوں کے ذریعے سامان افغانستان منتقل کرنے کا موقع ملے گا۔















