پاکستان کی دفاعی برآمدات میں 13 ارب ڈالر کےسودوں کا امکان

پاکستان عالمی دفاعی منڈی میں 13 ارب ڈالر کے ممکنہ دفاعی برآمدی آرڈرز کی تیاری کر رہا ہے، جس کا ملک کی معیشت پر نمایاں اثر ہو سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان کی دفاعی برآمدات میں 13 ارب ڈالر کے امکانات

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت کے ساتھ حالیہ تنازع کے بعد پاکستان عالمی دفاعی منڈی میں ایک ابھرتے ہوئے برآمد کنندہ کے طور پر سامنے آیا ہے، جہاں ملک تقریباً 13 ارب ڈالر مالیت کے ممکنہ دفاعی برآمدی آرڈرز کی تیاری کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت آئندہ برسوں میں پاکستان کے زرِمبادلہ اور صنعتی ڈھانچے پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے ریسرچ اینالسٹ ایم فراں خان کے مطابق آپریشن بنیانِ مرصوص کے بعد پاکستان کی سفارتی اور دفاعی حیثیت میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اس کے نتیجے میں جیو اسٹریٹجک شراکت داریوں اور دفاعی معاہدوں کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

کے ٹریڈ سیکیورٹیز کی میکرو ریسرچ کے مطابق ممکنہ 13 ارب ڈالر کے دفاعی آرڈرز میں لڑاکا طیارے، تربیتی جہاز، بکتر بند گاڑیاں، ڈرونز، بحری پلیٹ فارمز اور اسلحہ شامل ہیں۔ اگر یہ معاہدے عملی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو یہ رقم پاکستان کے موجودہ زرِمبادلہ کے ذخائر کے 80 فیصد سے زائد اور مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 3.7 فیصد کے برابر ہو گی۔

ماضی میں پاکستان کی دفاعی برآمدات محدود رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے کامٹریڈ ڈیٹا بیس کے مطابق 2024 میں پاکستان کی اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدات محض 22.38 ملین ڈالر تھیں۔ موجودہ اندازے ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جے ایف 17 تھنڈر بلاک 3، سپر مشاق، کے 8 تربیتی طیارے، مسلح و نگرانی ڈرونز، بکتر بند گاڑیاں اور بحری جہاز کم لاگت متبادل کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔ فی الوقت پاکستان کی دفاعی پیداوار زیادہ تر سرکاری اور عسکری اداروں تک محدود ہے، لیکن آئندہ مرحلے میں نجی شعبہ ذیلی کنٹریکٹر کے طور پر شامل ہو سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں