چین نے کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر بھارتی اعتراضات مسترد کردئیے

چین نے کشمیر کی شکسگام ویلی میں ترقیاتی منصوبوں پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ چین کا حصہ ہے اور سی پیک کا دفاع کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
چین نے کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر بھارتی اعتراضات مسترد کیے

بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین نے کشمیر کی شکسگام ویلی میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر بھارت کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا دفاع کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ مذکورہ علاقہ چین کا حصہ ہے اور اپنی سرزمین پر ترقیاتی سرگرمیاں چین کا خود مختار حق ہیں۔

ماؤ ننگ نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سرحد کا تعین کیا گیا۔ یہ معاہدہ دو خود مختار ریاستوں کے باہمی حقوق کے تحت طے پایا تھا۔

ترجمان نے کہا کہ سی پیک ایک معاشی تعاون کا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری لانا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے معاہدے اور سی پیک چین کے مسئلہ کشمیر سے متعلق مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور چین کا مؤقف بدستور برقرار رہے گا۔

گزشتہ ہفتے بھارتی وزارت خارجہ نے شکسگام ویلی میں چین کے ترقیاتی منصوبوں پر اعتراض کیا تھا، جبکہ پاکستان اور چین نے بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات میں ترقیاتی منصوبوں کو ہم آہنگ کرنے اور سی پیک 2.0 کے آغاز پر اتفاق کیا تھا۔

یاد رہے کہ 4 جنوری کو پاکستان چین وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے ساتویں دور کا انعقاد بیجنگ میں ہوا، جس کی مشترکہ صدارت چینی وزیر خارجہ وانگ یی اور پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کی، جہاں سیاسی تعلقات، سیکیورٹی تعاون اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دیگر متعلقہ خبریں