جنگ بندی کے بعد غزہ میں 100 سے زائد بچوں کی ہلاکت، یونیسیف کا انکشاف

غزہ میں اکتوبر کے اوائل سے جاری جنگ بندی کے بعد 100 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
غزہ میں جنگ بندی کے بعد 100 سے زائد بچوں کی ہلاکت

غزہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق اکتوبر کے اوائل میں جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں 100 سے زائد بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ڈرون اور کواڈ کاپٹر حملوں کے متاثرین بھی شامل ہیں۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے غزہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے اقوام متحدہ کی بریفنگ میں بتایا کہ 60 لڑکوں اور 40 لڑکیوں کی ہلاکتیں زیادہ تر فوجی کارروائیوں کے باعث ہوئیں، جن میں فضائی حملے، ڈرون، ٹینکوں کی گولہ باری، فائرنگ اور کواڈ کاپٹرز شامل ہیں۔ چند اموات غیر پھٹے ہوئے جنگی مواد کے باعث ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ تعداد کم بھی ہو سکتی ہے۔

منگل کو غزہ کی پٹی میں بارش اور تیز ہواؤں کے باعث سینکڑوں خیمے زیرِ آب آ گئے اور بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارتیں منہدم ہو گئیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے۔ مقامی صحت حکام کے مطابق غزہ سٹی کے ساحلی علاقے میں گھروں کے گرنے سے 2 خواتین اور ایک بچی سمیت 5 افراد جان سے گئے، جبکہ وسطی غزہ کے دیر البلح میں ایک سالہ بچہ شدید سردی کے باعث خیمے میں دم توڑ گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق تیز ہواؤں سے خیمے اپنی جگہوں سے اکھڑ کر کئی میٹر دور جا گرے، جبکہ متاثرہ خاندان سیلابی پانی سے سامان بچانے میں مصروف رہے۔ ایک بے گھر شہری باسل حمودہ نے بتایا کہ تیز ہوا کے دباؤ سے آٹھ میٹر اونچی کنکریٹ دیوار خیموں پر آ گری، جس سے ایک 73 سالہ بزرگ، ان کی بہو اور پوتی ہلاک ہو گئیں۔

واضح رہے کہ جنگ بندی کے تین ماہ بعد بھی اسرائیلی افواج کے احکامات کے تحت غزہ کے تقریباً دو تہائی علاقے خالی کرائے جا چکے ہیں، جس کے باعث 20 لاکھ سے زائد آبادی ایک تنگ ساحلی پٹی میں خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہے۔ حماس کے زیرِ انتظام غزہ میڈیا دفتر کے مطابق موسمِ سرما کے آغاز سے اب تک سردی یا غیر محفوظ عمارتوں کے گرنے سے کم از کم 31 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ 48 گھنٹوں میں 7 ہزار خیمے متاثر ہوئے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں