اجیت ڈوول کے مسلمانوں کے خلاف بیان پر بھارتی سیاسی رہنماؤں نے شدید تنقید کی۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد کو بڑھا سکتا ہے۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے حالیہ بیان نے ملک میں سیاسی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی ترغیب دی، جس پر اپوزیشن اور ماہرین نے شدید تنقید کی ہے۔
اجیت ڈوول نے ڈیولپڈ انڈیا ینگ لیڈرز ڈائیلاگ – 2026 کے دوران کہا کہ نوجوانوں کے دلوں میں تاریخ کا بدلہ لینے کی آگ ہونی چاہیے۔ اس بیان کو اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اُکسانا تصور کیا جا رہا ہے۔
معروف سماجی کارکن محبوبہ مفتی نے اس بیان کو اقلیتوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بیان بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد کو بڑھانے کی عکاسی کرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈوول ڈاکٹرائن خطے میں پراکسیز کے ذریعے عدم استحکام پیدا کرنے اور جنوبی ایشیا میں تنازعہ کو ہوا دینے کا ذریعہ ہے۔ آر ایس ایس اور ڈوول ڈاکٹرائن کا گٹھ جوڑ عالمی امن کے لئے بھی خطرہ ہے۔















