پنجاب میں ہیپاٹائٹس کٹس کی خریداری میں بے قاعدگیوں سے سرکاری خزانے کو 7 کروڑ 58 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب میں ہیپاٹائٹس کی تشخیصی کٹس کی خریداری میں بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس سے سرکاری خزانے کو 7 کروڑ 58 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2024-25 کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی ہیلتھ آفس نے کٹس کی خریداری کے لیے 220 ملین روپے کا تخمینہ لگایا تھا، جو کہ فرم کی قیمت سے 44 فیصد زیادہ تھا۔ چار کمپنیوں نے بولیاں دیں مگر صرف ایک کو اہل قرار دیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک کمپنی کو اہل قرار دینے سے مقابلے کی فضا ختم ہو گئی، جبکہ لیڈی ولنگڈن اسپتال نے 39 فیصد کم قیمت پر یہی کٹس خریدیں۔ قواعد کی خلاف ورزی پر افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق قیمتیں وفاقی حکومت کے ڈرگ ایکٹ کے مقرر کردہ ریٹ سے زیادہ تھیں، اور محکمہ صحت پنجاب کی کمزور نگرانی اور مالیاتی کنٹرول کی غفلت سے نقصان ہوا۔ 19 ستمبر 2024 کو انکوائری کا حکم دیا گیا تھا مگر محکمہ صحت نے ابھی تک کوئی رپورٹ جمع نہیں کرائی۔















