افغانستان میں خاتون صحافی نذیرہ رشیدی کی گرفتاری نے صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
کابل: (رائیٹ ناوٴ نیوز) افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت آزادیٔ صحافت کے حالات مزید دشوار ہوتے جا رہے ہیں۔ طالبان نے قندوز کی خاتون صحافی نذیرہ رشیدی کو گرفتار کر لیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
نذیرہ رشیدی کو 6 جنوری کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ پچھلے چار دنوں سے طالبان کی تحویل میں ہیں، جبکہ ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
افغان میڈیا پروٹیکشن آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ نذیرہ رشیدی کو کسی قانونی جواز کے بغیر گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے مطابق خواتین صحافیوں کو شدید پابندیوں، دھمکیوں اور ہراسانی کا سامنا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 32 فیصد سے زائد افغان خواتین صحافی سیکیورٹی خدشات کے باعث خفیہ طور پر کام کر رہی ہیں۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں افغانستان آزادیٔ صحافت کے عالمی انڈیکس میں 175ویں نمبر پر آ چکا ہے۔
صحافتی تنظیموں کے مطابق طالبان حکومت کی سخت پالیسیوں اور عالمی برادری کی خاموشی کے باعث افغانستان میں آزادیٔ اظہار اور آزاد صحافت شدید خطرے میں ہیں۔














