پاکستان میں موبائل بینکنگ اکاؤنٹس 120 ملین سے متجاوز، ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ

موبائل بینکنگ اکاؤنٹس کی تعداد 120 ملین سے تجاوز کر گئی ہے، کووڈ-19 کے بعد ڈیجیٹل بینکاری کی جانب رجحان میں تیزی آئی، اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا استعمال اہم وجوہات ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان میں موبائل بینکنگ اکاؤنٹس 120 ملین سے متجاوز، ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں موبائل بینکنگ کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جہاں موبائل بینکنگ اکاؤنٹس کی تعداد 120 ملین سے تجاوز کر گئی ہے۔ کووڈ-19 کے بعد ڈیجیٹل بینکاری کی جانب رجحان میں اضافہ ہوا، جس میں اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے بڑھتے استعمال نے اہم کردار ادا کیا۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام تک کمرشل بینکوں کے 25.8 ملین صارفین موبائل بینکنگ ایپس استعمال کر رہے تھے، جبکہ برانچ لیس بینکنگ صارفین کی تعداد ستمبر 2025 کے اختتام تک 87.9 ملین تک پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں فِن ٹیک آپریٹرز کے صارفین کی تعداد 6.27 ملین ریکارڈ کی گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق ملک میں 34 کمرشل بینک، 14 برانچ لیس بینکنگ آپریٹرز اور 6 الیکٹرانک منی ادارے کام کر رہے ہیں۔ صارفین موبائل بینکنگ کے ذریعے فنڈز کی منتقلی، یوٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی، ٹکٹوں کی بکنگ، آن لائن خریداری، ڈیجیٹل قرضوں اور موبائل ری چارج جیسی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بینکوں اور مالیاتی اداروں نے موبائل ایپس کے بیک اینڈ سسٹمز اور یوزر انٹرفیس پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جس سے صارفین کو تیز، محفوظ اور سہل خدمات میسر آئی ہیں۔ موبائل ایپس کے ذریعے چند سیکنڈ میں لین دین ممکن ہونے سے وقت اور لاگت میں نمایاں بچت ہو رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران موبائل بینکنگ ایپس کے ذریعے 2 ارب لین دین کیے گئے، جن کی مجموعی مالیت 337 کھرب روپے رہی۔ یہ ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ہونے والے کل لین دین کا 81 فیصد بنتا ہے، جبکہ اسی مدت میں مجموعی ڈیجیٹل لین دین 2.5 ارب رہا۔

بینکاری ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل بینکوں اور فِن ٹیک اداروں کی نئی خدمات، جیسے ارنڈ ویج ایکسس، ڈیجیٹل انشورنس اور ڈیجیٹل سرمایہ کاری، مستقبل میں موبائل بینکنگ کے لین دین میں مزید تیزی کا باعث بنیں گی۔

دیگر متعلقہ خبریں