ایران میں احتجاج میں شدت کے باعث سرکاری املاک پر حملے ہوئے اور امن و امان کے لئے فوج کی مداخلت ہوئی، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران میں گزشتہ پندرہ دنوں سے جاری احتجاج میں شدت آگئی ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے مختلف حصوں میں امن و امان کی صورتحال نازک ہوگئی ہے۔ 31 صوبوں کے 100 سے زائد شہروں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوئے۔
ایرانی حکام نے بڑھتی ہوئی بدامنی کے پیش نظر فوج کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے میدان میں اتار دیا ہے۔ فوج نے بیان میں کہا ہے کہ وہ ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو ناکام بنائے گی۔
ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے تاکہ حالات کو کنٹرول میں رکھا جا سکے اور افواہوں کا پھیلاؤ روکا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکا مداخلت پر غور کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران نے امریکی مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں سختی سے ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایران نے امریکہ پر بدامنی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔














