چین، روس اور ایران نے جنوبی افریقا میں برکس پلس کے تحت بحری مشقیں کی ہیں، جبکہ امریکا اور برکس ممالک کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔
جنوبی افریقا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین، روس اور ایران نے جنوبی افریقا کی سمندری حدود میں برکس پلس کے تحت مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں، جنہیں میزبان ملک نے بحری جہاز رانی اور سمندری معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ یہ مشقیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا اور برکس پلس کے متعدد ممالک کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔
برکس پلس اس جغرافیائی و سیاسی اتحاد کی توسیع شدہ شکل ہے جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ رکن ممالک اس اتحاد کو امریکا اور مغربی دنیا کی معاشی بالادستی کے مقابل توازن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
جنوبی افریقا کی فوج نے بتایا کہ ایکسسرسائز ‘وِل فار پیس 2026’ برکس پلس ممالک کی بحری افواج کو مشترکہ سمندری تحفظ کی کارروائیوں کے لیے اکٹھا کرتی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل مفو ماتھیبولا نے کہا کہ اس مشق میں تمام برکس پلس رکن ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور یہ محض ایک بحری مشق ہے جس کا مقصد صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور معلومات کا تبادلہ کرنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برکس ممالک پر امریکا مخالف پالیسیاں اختیار کرنے کا الزام عائد کر چکے ہیں اور انہوں نے تجارتی محصولات میں اضافہ کی دھمکی دی تھی۔ جنوبی افریقا کی ڈیموکریٹک الائنس نے ان مشقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی غیر جانبداری کے خلاف ہیں، تاہم جنوبی افریقا کے حکام نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔














