نور فاطمہ کا دارالامان لاہور میں معائنہ کیا گیا، صحت مند قرار۔ وزارت داخلہ کی اجازت کے بغیر بھارت منتقلی ممکن نہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارتی خاتون سربجیت کور، جو اسلام قبول کرنے کے بعد نور فاطمہ کے نام سے جانی جاتی ہیں، کا دارالامان لاہور میں طبی معائنہ کیا گیا اور انہیں صحت مند قرار دیا گیا۔
لاہور ہائی کورٹ میں سربجیت کور کی بے دخلی سے متعلق دائر درخواست پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وزارت داخلہ نے تاحال انہیں واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت بھیجنے کے لیے خصوصی اجازت یا ایگزٹ پرمٹ جاری نہیں کیا، جس کی وجہ سے 5 جنوری 2026 کو ان کی بھارت واپسی ممکن نہ ہو سکی۔
وکیل علی چنگیزی کے مطابق بعض حالات میں واہگہ بارڈر کے ذریعے خصوصی سفری اجازت نامے پر بھارت منتقلی ممکن ہوتی ہے، تاہم اس کیس میں ایسی اجازت نہیں ملی۔
پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے انہیں دارالامان لاہور منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم نے 9 جنوری 2026 کو ان کا معائنہ کیا اور صحت تسلی بخش قرار دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ منتقلی وزارت داخلہ کی منظوری سے مشروط ہے۔
نور فاطمہ 4 نومبر 2025 کو پاکستان آئیں تھیں اور 5 نومبر کو اسلام قبول کر کے ناصر حسین سے نکاح کیا۔ ویزے کی معیاد 14 نومبر کو ختم ہو گئی تھی، جس کے بعد انہیں اور ان کے شوہر کو ننکانہ صاحب سے گرفتار کیا گیا تھا۔














