بچے کے رونے کی مختلف عام وجوہات میں پیٹ درد، نیند کی کمی اور کولک شامل ہیں، مگر اگر رونا غیر معمولی ہو تو ڈاکٹر سے فوری رابطہ ضروری ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اگر بچہ پیٹ بھرا ہونے اور پیمپر صاف ہونے کے باوجود بھی روتا ہے تو یہ ایک عام بات ہو سکتی ہے، مگر بعض وجوہات سنگین ہو سکتی ہیں جن کے لیے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے۔
رونے کی عام وجوہات میں گیس یا پیٹ درد شامل ہیں، جو دودھ پیتے وقت ہوا نگلنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں بچے کو ڈکار دلائیں اور ہلکے سے پیٹ سہلائیں۔
نیند کی کمی بھی بچے کے رونے کا سبب بن سکتی ہے، خصوصی طور پر اگر بچہ تھکا ہوا ہو لیکن سو نہ پا رہا ہو۔ اس کے علاوہ شور یا روشنی نیند میں خلل ڈال سکتے ہیں۔
کولک کی صورت میں بچے بغیر واضح وجہ کے مخصوص اوقات میں شدید روتے ہیں، جو عموماً 2 ہفتے سے 4 ماہ تک کے بچوں میں ہوتا ہے۔
گرمی یا سردی کی وجہ سے بچے کے کپڑے نامناسب ہوں تو پسینہ یا ٹھنڈ لگنے کا امکان ہوتا ہے، جو رونے کا باعث بن سکتا ہے۔
کبھی کبھی بچے کو صرف ماں باپ کی قربت کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے گود میں لینے پر رونا بند ہو سکتا ہے۔
کپڑوں کی تنگی یا جسمانی تکلیف جیسے کہ لیبل چبھنا بھی رونے کی وجہ ہو سکتی ہے، جبکہ دانت نکلنے کی شروعات میں بھی بچے کے مسوڑھوں میں خارش یا درد ہو سکتا ہے۔
اگر رونا بہت تیز اور غیر معمولی ہو، یا بخار، قے، اسہال، یا دودھ پینے سے انکار ہو، تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔















