بلوچستان حکومت نے طلبہ و خواتین کے لیے رعایتی الیکٹرک بائیک اسکیم شروع کی ہے، جس سے سفری مشکلات میں کمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا۔
کوئٹہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بلوچستان حکومت نے طلبہ، نوجوانوں اور خواتین کے لیے رعایتی الیکٹرک بائیک اسکیم کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد سفری مشکلات میں کمی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے۔ اس اسکیم کی منظوری صوبائی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کی۔
اسکیم کے تحت صوبائی حکومت الیکٹرک بائیک کی مجموعی قیمت کا 30 فیصد برداشت کرے گی، جبکہ بقیہ رقم شراکت دار بینکوں کے تعاون سے آسان ماہانہ اقساط میں وصول کی جائے گی۔ حکام کے مطابق طلبہ کو اس اسکیم میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں اور صوبے میں محدود پبلک ٹرانسپورٹ کے پیش نظر تیار کیا گیا ہے، جس سے خاص طور پر ان طلبہ کو سہولت ملے گی جو طویل فاصلے طے کر کے تعلیمی اداروں تک پہنچتے ہیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے تعلیمی حاضری اور وقت کی پابندی میں بہتری آئے گی۔
اسکیم کے تحت ملازمت پیشہ خواتین اور سرکاری ملازمین بھی الیکٹرک بائیکس کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ عام شہریوں کو مرحلہ وار مالیاتی نظام کے تحت شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ حکومت کی صاف توانائی اور کم ایندھن استعمال کرنے والی ٹرانسپورٹ کے فروغ کی پالیسی کا حصہ ہے، جس سے فضائی اور صوتی آلودگی میں کمی متوقع ہے۔
اجلاس میں کابینہ نے شفاف اور میرٹ پر مبنی عملدرآمد پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اسکیم کے انتخابی عمل کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رکھا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ عوامی وسائل ایسے منصوبوں پر خرچ کیے جائیں جو براہِ راست عوام کو ریلیف فراہم کریں، اور نوجوانوں میں سرمایہ کاری صوبے کے مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
واضح رہے کہ اسکیم سے متعلق اہلیت، درخواست کے طریقہ کار اور شیڈول پر مشتمل تفصیلی ہدایات بعد میں جاری کی جائیں گی، جبکہ حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے ہزاروں خاندانوں کو عملی مالی سہولت میسر آئے گی۔















